اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اساعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا جن ایک مرتبہ پھر بے قابو ہونے کو ہے۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر شہر میں تین افراد دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں دو کا تعلق محکمہ پولیس سے جبکہ ایک نوجوان کو پاکستان آئے آج تیسرا دن تھا۔ ڈی آئی خان کے علاقے ڈیوالہ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان سید ذیشان حیدر شاہ اور نزاکت علی مغربین کے بعد روٹی لینے کی غرض سے موٹرسائیکل پر شہر کی جانب جارہے تھے۔ سید ذیشان حیدر عرف شانی شاہ محکمہ پولیس میں کانسٹیبل اور ہائیکورٹ میں سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ جب کہ نزاکت علی عرف مٹا دو روز قبل سعودی عرب سے واپس آیا تھا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق سید ذیشان حیدر اور نزاکت علی پرانے دوست تھے، اور رات ایک مختصر سی دعوت کا اہتمام کیا ہوا تھا، جس کے لیے دونوں دوست روٹیاں لینے جارہے تھے، کہ شاہ کے کھو والے مین روڈ کے پہلے موڑ پر مسلح موٹرسائیکل سواروں نے پیچھے سے فائرنگ کردی۔ جس کی زد میں آکر دونوں دوست شدید زخمی ہوگئے، اور موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں باآسانی کامیاب ہوگئے۔ انوسٹی گیشن برانچ کے انچارج نے اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل سید ذیشان حیدر کی ڈیڈ باڈی کو پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے گھر پر منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ نزاکت علی کی میت تاحال ہسپتال میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں نوجوانوں کو سر اور چہرے کی سائیڈ پر پسٹل کی گولیاں ماری گئی ہیں۔ پولیس نے دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے خیال میں یہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی کارروائی ہے، جس میں کالعدم جماعت کے ٹارگٹ کلرز ملوث ہیں۔
.......
/169